Friday, January 17, 2020

Surah No 100

سورۃ العادیات
سورۃ العادیات ترتیب تلاوت کے اعتبار سے قرآن کریم کی 100ویں سورت ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے14 سورت ہے جو انا اعطیناک الکوثر کے بعد اور والعصر سے قبل نازل ہوئی۔چونکہ یہ سورت والعادیات سے شروع ہوئی اس لیے اس کو سورۃ العادیات کہا جاتا ہے۔اس میں ایک رکوع،11آیات،40 کلمات،163 حروف ہیں۔
فضیلت
العادیات “ کا معنی ہے : وہ گھوڑے جن کو مجاہدین دشمن کا پیچھا کرنے کے لیے دوڑاتے ہیں، اس سورت کا نام العادیات ہے. 
امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ العدیت مکہ میں نازل ہوئی ہے۔
امام ابوعبید نے حسن بصری سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اذا زلزلت “ نصف قرآن کے برابر ہے اور ” والعدیت “ نصف قرآن کے برابر ہے۔ (الدرالمنثور ج ٨ ص 547)
ترتیب نزول کے اعتبار سے اس سورت کا نمبر ١٤ ہے اور ترتیب مصحف کے اعتبار سے اس کا نمبر ١٠٠ ہے۔
العدیت : ٧-١ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے گھوڑوں کی قسم کھا کر یہ بتایا ہے کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔
العدیت : ٨ انسان کی طبیعت میں مال و دولت کو حاصل کرنے کی شدید حرص ہے۔
العدیث : ١١-٩ انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ نیک اعمال کرے تاکہ قیامت کے دن سرخروہ ہو سکے اور اسے برے اعمال کے عذاب سے ڈرایا ہے۔
العدیت کے اس مختصر تعارف کے بعد اب میں اللہ تعالیٰ کی امداد اور اعانت پر اعتماد کرتے ہوئے اس سورت کا ترجمہ اور تفسیر شروع کر رہا ہوں۔ اے رب کریم ! مھے اس ترجمہ اور تفسیر میں صواب پر قائم رکھنا۔ (آمین)
سورة العدیت مکی ہے اس میں گیارہ آیات اور ایک رکوع ہے 
اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھائی ہیں جو جنگ کے دوران گھوڑوں کی مختلف حالتوں سے متعلق ہیں۔ ارشاد ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں پھر اپنی ٹاپوں سے چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کے وقت دشمن پر دھاوابولتے ہیں اور گردوغبار اڑاتے ہوئے دشمن کے لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے اور بھی جانور پیدا کیے ہیں مگر جو اوصاف اور قوت گھوڑے میں رکھی ہے وہ کسی اور جانور میں دکھائی نہیں دیتی۔
انسان ایک گھوڑے کو دانہ اور گھاس ڈالتا اور اسے رہنے کے لیے چھت مہیا کرتا ہے تو وہ گھوڑا اپنے مالک کے احسان کو پہچان کر صبح و شام اس کی فرماں برداری میں دوڑتا بھاگتا ، ہانپتا، پاؤں سے چنگاریاں اور گرد و غبار اڑاتا اس منزل کی طرف پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جہاں اس کا مالک اسے پہنچانا چاہتا ہے۔ اگر وہ دشمن کی صفوں میں گھسنا چاہتا ہے تو گھوڑا اپنی جان کی پر واکئے بغیر صفوں کو چیرتا ہوا درمیان میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنے مالک کی وفاداری میں اپنی جان تک دے ڈالتا ہے مگر اپنے مالک پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ فرمایا کہ ایک گھوڑا تو ذرا سے دانے اور گھاس کا شکر اس طرح اپنی وفاداریوں کے ذریعہ پیش کرتا ہے۔
لیکن انسان جس کو اللہ نے بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ اپنے مالک کا احسان تک نہیں مانتا اور اپنی ناشکریوں اور نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے۔ اسے مال و دولت اور دنیا کی چکاچوندے نے اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ اپنی آخرت اور اس کے انجام تک کو بھول جاتا ہے۔ وہ اس ابتکو بھول رہا ہے کہ اس دنیا میں اس کا ہر عمل اور ہر حرکت ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اللہ کو اس کے ظاہر و باطن اور اچھے برے سب اعمال کا پوری طرح علم ہے لیکن جب قیامت کے دن اس کے اعمال کا ریکارڈ اس کے سامنے رکھا جائے گا تو اسے کسی بات سے انکار کی گنجائش نہ ہوگی اور اس کے سینے میں چھپے ہوئے راز جو دنیا میں ہر ایک سے چھپایا کرتا تھا وہ سارے پوشیدہ راز کھل کر سامنے آجائیں گے۔ وہ نتیجہ کا وقت ہوگا پھر عمل کرنے کا موقع نہیں ہوگا۔
کیا انسان کو اس سے یہ سبق نہیں سیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے مالک کی خدمت میں دل و جان سے حاضر رہے اور جو حکم فوراً بجا لائے افسوس برخلاف اس کے انسان اپنے رب کا احسان بھول جاتا ہے اور اس کی ناشکری کرتا ہے۔ حالانکہ یہ گھوڑوں اور بعض اور جانوروں کے حالات اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ یہ اس قدر خود غرض ہے کہ دنیا کا مال و متاع جمع کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اور جب کچھ فائدہ حاصل ہوجائے تو مگن ہوکر بیٹھ جاتا ہے اپنے رب کا خیال بھی نہیں کرتا۔ اس کو یہ معلوم نہیں کہ ایک دن جو کچھ قبروں میں گڑا ہوا ہے۔ سب کو باہر نکال لیا جائے گا اور انسان کے دل میں جو کچھ خیالات بھرے ہوئے تھے سب کھلم کھلا سامنے رکھ دیے جائیں گے اس وقت ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ اپنے بندوں کے حال سے ذرّہ ذرّہ واقف ہے اس وقت اس کی آنکھیں کھلیں گی۔ اور غفلت کا پردہ سامنے سے ہٹ جائے گا۔
کفران نعمت تین طرح ہوتا ہے۔ اول یہ کہ نعمت کو نعمت دینے والے سے نہ سمجھے بلکہ اس کو دوسری کی طرف نسبت کرے۔ دوسرے اس نعمت سے وہ فائدے جس کے واسطے وہ نعمت دی گئی ہے نہ اٹھاوے بلکہ اس کی ضد پر استعمال کرے۔ تیسرے یہ کہ نعمت میں مشغول ہوجاوے اور منعم سے غافل اور اس قدر محبت نعمت کی اس کے دل پر غالب ہوجائے کہ اس میں غرق ہوجائے اور نعمت دینے والے کو بھول جائے۔ الغرض اگر انسان مالک حقیقی کو نہ پہچانے اس کی اطاعت و فرماں برداری نہ کرے اور اس کی نعمتوں کا شکرگزار نہ ہو تو اس نے اپنی صفت انسانیت کو اتنا گرادیا کہ یہ جانوروں سے بھی زیادہ حقیر و ذلیل ہوگیا۔
سیدنا انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول تھا کہ آپ صبح فجر کے وقت دشمنوں پر حملہ کیا کرتے تھے، تو آپ (جب کسی علاقے پر حملے کے لیے جاتے تو) اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے اور اگر وہاں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ ان پر حملہ نہیں کرتے تھے، ورنہ ان پر حملہ کردیتے تھے۔ [ مسلم، کتاب الصلوۃ، باب الإمساک عن الإغارۃ علی قوم فی دارالکفر۔۔ الخ : ٣٨٢ ]
سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدوں کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے) گھوڑا پالا، تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب کا سب قیامت کے دن اس کی ترازو میں رکھ کر تولا جائے گا (اور سب پر اسے ثواب ملے گا) ۔ “ [ بخاری، کتاب الجھاد، باب من احتبس فرسًا فی سبیل اللہ۔۔ الخ : ٢٨٥٣ ]
سیدنا جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلی سے مروڑتے ہوئے یہ فرماتے سنا : ” خیر قیامت تک کے لیے گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ بندھی ہوئی ہے یعنی اجر وثواب اور مال غنیمت۔ “ [ مسلم، کتاب الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل و أن الخیر معقود بنواصیہا : ١٨٧٢ ]
سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مقابلہ صرف تین چیزوں میں جائز ہے، اونٹ دوڑ، گھڑ دوڑ یا تیر اندازی۔ “ [ ترمذی، کتاب الجھاد، باب ما جاء فی الرھان و السبق : ١٧٠٠۔ أبو داوٗد، کتاب الجہاد، باب فی السبق : ٢٥٧٤ ]

حضرت ابن عباس نے فرمایا : انسان طبعی طور پر ناشکرا ہے اور ” لکنود “ کا معنی ہے : ” لکفور “ یعنی وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا، حسن بصری نے کہا : انسان مصائب کا ذکر کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔
حکیم ترمذی نے حضرت ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” الکنود “ وہ شخص ہے جو خود کھاتا ہے اور اپنے رفقاء کو نہیں کھلاتا۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :7778)
حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! کیا میں تم میں سب سے برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں، صحابہ نے کہا : کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! فرمایا : جو عطیہ کو صرف اپنے پاس رکھے اور اپنے خادم کو مارے۔ (نوادر الاصول ص 267)
نیز حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کندہ اور حضرموت کی لغت میں ’ دالکنود “ کا معنی ہے : نافرمان اور ربیعہ اور مضر کی لغت میں اس کا منی ہے : ” الکفور “ یعنی بہت ناشکرا اور کنانہ کی لغت میں اس کا معنی ہے، بہت بخیل، نیز حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت میں اس سے مراد کافر ہے۔
ابوبکر الواسطی نے کہا : ” الکنود “ وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرے اور ابوبکر الوراق نے کہا : ” الکنود “ وہ شخص ہے جو سمجھتا ہے کہ اس کو نعمت اس کی اور اس کے دوستوں کی وجہ سے ملی ہے، امام ترمذی نے کہا : ” کنود “ وہ شخص ہے جو نعمت کو دیکھے اور نعمت دینے والے کو نہ دیکھے “ ھلوع “ اور ” کنود “ وہ شخص ہے جس پر مصیبت آئے تو گھبرا جائے اور راحت آئے تو ناشکری کرے، ایک قول یہ ہے کہ وہ کینہ رکھنے والا اور حسد کرنے والا ہے، ایک قول ہے کہ وہ تقدیر سے جاہل ہے اور حکمت میں ہے : جو تقدیر سے جاہل ہے، اس نے اپنی عزت کا پردہ چاک کردیا۔
علامہ قرطبی فرماتے ہیں : ان تمام اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ ” الکنود “ ناشکرا اور منکر ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تفسیر صفات مذمومہ غیر محمودہ کے ساتھ کی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص 142-143 دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)
حضرت ابن (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہؤے سنا ہے : اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو و تیسری وادی کو طلب کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6436، صحیح مسلم رقم الحدیث :1049، مسند حمد ج ٦ ص 55 ج ٣ ص 247)
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بحرین کا مال آیا، آپ نے فرمایا : اس کو مسجد میں پھیلا دو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو اموال آتے تھے ان میں یہ مال سب سے زیادہ تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے گئے اور اس مال کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، نماز پڑھانے کے بعد آپ اس مال کے پاس بیٹھ گئے، پھر آپ جس شخص کو بھی دیکھتے، اس کو اس مال سے عطا کرتے، اس وقت آپ کے پاس حضرت عباس (رض) آئے، پھر انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے مال عطا کیجیے کیونکہ میں نے اپنا فدیہ بھی دیا تھا اور عقیل کا فدیہ بھی دیا تھا، آپ نے ان سے فرمایا : آپ اس میں سے مال لے لیں، انہوں نے اپنے کپڑے میں مال ڈالنا شروع کیا اور اس مال کی چوٹی بنادی اور اس کو اٹھا نہ سکے، انہوں نے کہا : یا رسولا للہچ کسی کو حمک دیں کہ وہ اس مال کو اٹھا کر میرے اوپر رکھ دے، آپ نے فرمایا : نہیں ! آپ خود اٹھائیں، انہوں نے کہا : اچھا تو پھر آپ اٹھا کر رکھ دیں، آپ نے فرمایا : نہیں، انہوں نے اس گٹھڑی سے مال کم کیا لیکن پھر اس کی چوٹی بن گئی، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کو کہیے کہ اس کو اٹھا کر مجھ پر رکھ دے، آپ نے فرمایا : نہیں، انہوں نے کہا، پھر آپ خود اٹھا کر رکھ دیں، آپ نے فرمایا نہیں : آپ خود اٹھائیں، انہوں نے اس میں سے مال کم کیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا، پھر چلے گئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر ان کا تعاقب کرتی رہی، حتیٰ کہ وہ نظر سے اوجھل ہوگئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی حرص پر تعجب ہو رہا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے اس وقت اٹھے، جب وہاں پر ایک درہم بھی باقی نہیں رہا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢١ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے، جنہوں نے لوہے کے دو کوٹ پہنے ہوئے ہوں، جو ان کے پستانوں سے ان کے گلوں تک ہوں، رہا خرچ کرنے والا تو وہ جوں جوں خرچ کرتا ہے، اس کے لوہے کے کڑے ڈھیلے ہوتے جاتے ہیں اور اس کے جسم سے ان کڑوں کے نشان مٹتے جاتے ہیں اور بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرے تو لوہے کا ہر کڑا اس کے جسم کے ساتھ اور چمٹتا جاتا ہے، وہ اس کوٹ کو کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٤٣، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤٧ مسند احمد ج ٢ ص 389)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر روز جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو وہ فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک فرشتہ دعا کرتا ہے، اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو (خرچ کئے ہوئے) مال کا بدل عطا فرما اور دوسرا فرشتہ دعا کرتا ہے : اے اللہ ! بخیل کے مال کو ضائع کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٤٢ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩١٧٨)